غلام حسین ساجد ۔۔۔ کچھ آسماں کی خبر ہے نہ اب زمیں معلوم

کچھ آسماں کی خبر ہے نہ اب زمیں معلوم
گزر رہا ہوں کہاں سے مجھے نہیں معلوم

لپک کے کیسے کسی خواب کو سنبھالنا ہے
مجھے یہ رمز ہوئی آپ کے تئیں معلوم

عجیب خوف ہے جاتا ہے اور نہ مِٹتا ہے
لرز رہی ہے ابھی تک وہ شہ نشیں معلوم

دمک رہے ہیں ستارے تمھاری آنکھوں کے
مہک رہی ہے اندھیرے میں یاسمیں معلوم

تمام رات سیاہی سے جُھوجَھتا ہے فلک
سحر کے بعد یہ ہوتا ہے نیلمیں معلوم

خود اپنی ذات کا اثبات کر رہا ہوں مَیں
ہے بے یقینی کا حاصل مِرا یقیں معلوم

تلاش کرنے کی خواہش نہیں مجھے ساجد
چُھپے ہوئے ہیں کہاں شہر کے مکیں معلوم

Related posts

Leave a Comment